Writer Comrade Shair nadir shahi


مظفر حسین برچہ۔۔۔۔جس کی ایمانداری سزا بن گئی۔!
پاکستان جیسے سرمایہ داراور جاگیردار ملک میں سچ گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے،اس ملک میں انسانی، سیاسی، جمہوری، بنیادی حقوق، عدل و انصاف، مساوات، اور امن و امان کی فراہمی کے لیے کلمہ حق بلند کرنے والوں کو نہ صرف برا سمجھا جاتا رہا ہے بلکہ ان کو بندوق کی گولی سے خاموش کرایا جاتارہا ہے، کئی نامور انقلابی شعراء، صحافی حضرات، سیاسی و سماجی ورکرز کو سچائی کی پاداش میں نہ صر ف زندان میں ڈالا جاتا رہابلکہ ان میں سے کئی ایک کو قتل بھی کردیا گیااور یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔ اس ملک میں جنگل کا قانون ہے اور طاقتور کا راج ہے، اس ملک کے اند ر طبقاتی نظام ہے، امیر دن بدن امیر تر اور غریب دن  بدن غریب تر ہوتا جاتا ہے، یہ دنیا کی واحد ملک ہے جس میں غریب کے لیے الگ قانون جبکہ امیر، جاگیردار ااوروڈیروں کے لیے الگ قانون ہے، غریب کچھ بھی نہ کرنے کی پاداش میں قید و بند میں زندگی گزارتا ہے اور امیر بہت کچھ غلط کرنے کے باوجود بھی آزاد فضا میں زندگی جی لیتا ہے، ایسے حالات سے تنگ آکر معروف انقلابی شاعر حبیب جالب نے کہا تھاکہ:
دیب جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں بھی مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو،
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
بالکل اسی طرح اس ملک پر 5فیصد جاگیردار اور سرمایہ دار لوگوں کا قبضہ ہے جو اپنی مرضی سے اس ملک کا باگ ڈور سنبھالتے ہے او ر اس ملک95فیصد غربت کے مارے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے  کے لئے ان کو سہانے خواب دکھاتے ہیں اور خود پانچ پانچ سال باری باری اقتدار کا مزہ لوٹتے ہیں، یہ خود چوراور لٹیرے ہیں، ان پر ہاتھ ڈالنا کسی معمولی آفیسر کے لیے کسی بڑے سانحے سے کم نہیں ہے۔ ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ قابل ذکر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک ایماندار پولیس آفیسر تھا، وہ ایمانداری سے اپنے پیشہ وارانہ فرائض سر انجام دے رہا تھا، ایک دن اس نے کسی بڑے لٹیرے کو رینگے ہاتھوں پکڑ لیا،۔ اس کو تھانے میں بند کردیا اور اس سے لوٹا ہوا مال واپس کرادیا۔  لٹیرا با اثر شخص تھا، کچھ دن قید وبند برداشت کی اور پھر ایک دن چھوٹ گیا۔  پولیس آفیسر کے ساتھ اس کی دشمنی شروع ہوگئی،  اس لٹیرے نے ایک دن الیکشن میں حصہ لیا اور عوام کے ووٹ سے ایم پی اے منتخب ہوگیا اور اس نے سب سے پہلے اپنی برسوں پرانی دشمنی نبھاتے ہوئے اپنے حلقے کے اس ایماندار پولیس آفیسر کو معطل کردیاجس نے اس سے لوٹا ہوا مال واپس دلوایا تھا اور یوں پولیس آفیسر کو ایمانداری کی سزا مل گئی اور اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوگیا۔  اس کے بعد پولیس آفیسر نے اپنے ماتحت آفیسرز کو یہ ہدایت کی کہ اس ملک میں ایمانداری کے بجائے بے ایمانی سے فرض نبھانا پڑتا ہے اس لئے یہاں ایمانداری کا مظاہرہ کرکے اپنا ذرائعہ معاش ختم نہ کرنا۔
قارئین کرام:
اسی طرح کا ایک افسوسناک واقعہ گلگت بلتستا ن کے بہادر، نڈر اور فرض شناس  نوجوان مظفر حسین برچہ کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مظفر حسین برچہ کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذر سے ہے، انہوں نے آغاخان ہائر سکنڈری سکول گلگت سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 2010میں ائیر پورٹ سکیورٹی فورس جوائن کی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے کمانڈو کورس مکمل کرنے کے بعد ان کو اپنے شعبے میں اعلیٰ عہدے پر ترقی ملی۔  حالیہ دنوں مظفر حسین برچہ حسب َمعمول  لاہور ائیر پورٹ پراپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے کہ اچانک ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر کا لاڈلا  اپنی ہائی فائی گاڑی میں ائیر پورٹ کے احاطے میں داخل ہوگیا اور ائیر پورٹ کے قوانین توڑنے کی کوشش کی  جس پر سیکورٹی پر معمور اس فرض شناس آفیسر نے اسے چیکنگ کے لیے روک لیاتاکہ ملکی حالات کے پیشِ نظر سیکورٹی کلئیرنس کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے چند لمحوں بعد ریٹائرڈ آفیسر کا یہ لاڈلا گاڑی سے اتر کر آیا اور طیش اس فرض شناس  سیکورٹی آفیسر (مظفر حسین برچہ) کو گالی دی اور تھپڑ مارنے کی کوشش کی جس پر سیکورٹی آفیسر نے بھی ردعمل کر اظہار کیا، ایسا کرنا ان کا حق تھا کیونکہ وہ قانون کی پاسداری اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہی ڈیوٹی پر معمورتھا اور ایک فرض شناس اور ایماندار آفیسر کے لیے قانون ہی سب کچھ ہوتا ہے اور سب کے لئے برابر ہوتا ہے۔ اسی دوران ریٹائرڈ فوجی آفیسر کے لاڈلے بیٹے نے اپنے والد کو فون کیا اوراس نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر مظفر حسین برچہ کو نہ صرف نوکری سے معطل کرایا بلکہ اس کو انعام کے طور پر جیل بھیچ دیا گیا اور یو ں گلگت بلتستان کے یہ قابل فخر، ایماندار اور بہادر سپوت ان دنوں سینٹرل جیل فیروز پور لاہور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہا ہے۔
    میں اکثر یہ سوچتا رہتا ہوں کہ اس ملک کا کیا ہوگا جہاں نہ ایماندار ہے اور نہ ایمانداری کا صلہ، اس ملک میں میں نہ انصاف ہے اور نہ منصف، اس ملک میں نہ حقوق میسر ہیں اور نہ ہی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے محفوظ۔ اس ملک میں نہ جمہوریت ہے اور نہ ہی جمہوریت پسند لوگ۔ اس ملک میں نہ روٹی ہے نہ کپڑا اور نہ ہی مکان۔ ہر طرف ظلم و جبر ہے، ہر طرف نا انصافی ہے، کرپشن، رشوت ستانی، لوٹ کھسوٹ اور ظلم و زیادتی نے اس ملک کے جڑوں کو کھوکلا کرکے رکھ دیا ہے ایسے حالات میں اپنے فرائض ِ منصبی کو احسن طریقے سے سر انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے قانون کو پاؤں تلے روندنے والے جاگیرداراور سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر غریب، ایماندار، محنتی اور بہادر نوجوانوں کو ان کی ایمانداری  کا صلہ نوکری سے معطلی اور جیل کی شکل میں دینا اس ملک کے مستقبل کے لیے تابناک ہے۔
کالم کے آخر میں میں گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ  گلگت بلتستان کے اس عظیم، بہادر اور فرض شناس نوجوان مظفر حسین برچہ کو انصاف دلانے کے لیے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت سے اپیل کریں اور اس واقعے کی تحقیقات کراتے ہوئے نہ صرف مظفر حسین برچہ کو جیل سے چھڑائیں بلکہ ان کی بحالی کے ساتھ ساتھ فرض شناسی اور ایمانداری کے لیے ان کو انعام دیں تاکہ آئندہ ایسے فرض شناس نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوجائے۔ حفیظ صاحب کے لیے یہ کا م بہت آسان ہے کیونکہ ان کی حکومت مرکز کے ساتھ ساتھ پنچاب میں بھی ہے، وہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے قریبی بھی ہیں، اس لیے اس کیس پر توجہ دیں اور ذاتی طور پر اس کیس کو ہینڈل کریں اور گلگت بلتستا ن کے اس بہادر سپوت کو انصاف دلانے کے لئے اعلیٰ سطح پر کوششیں کریں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام کی جان و مال او ر عزت کی تحفظ آپ کا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔بصورت دیگر گلگت بلتستان کے نوجوان یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے:
یہ منصف بھی تو قیدی ہے، ہمیں انصاف کیا دینگے
لکھا ہے ان کے چہروں پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے
اٹھائیں لاکھ دیواریں، طلوعِ سحر تو ہوگا
یہ شب کے پاسبان ہم کو نہ کب تک راستہ دیں گے۔۔



Post a Comment

0 Comments